اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کے ایک ممتاز مصنف اور تجزیہ نگار ‘ڈاکٹر کیون بیرٹ’ نے پریس ٹی وی کی ویب سائٹ پر شائع ایک مضمون میں داعش کی خلافت کو غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ داعش کی نام نہاد اسلامی خلافت دراصل حقیقی اسلام کے خلاف ایک جھوٹا اسلامی پرچم ہے۔
بیرٹ لکھتے ہیں کہ داعش کا مشن اسلام کو مسخ کرنا،فرقہ وارانہ فسادات بھڑکانا اور مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام پیدا کر کے عالم اسلام میں امریکی مداخلت کیلئے راہ ہموار کرنا ہے۔
بیرٹ لکھتے ہیں کہ سابق القاعدہ کمانڈر نبیل نعیم نے بھی داعش کی نام نہاد خلافت کو امریکی پیداوار اور خلیج فارس کی کٹھ پتلی قرار دیکر کہا ہے کہ داعش کے تخلیق کار صیہونی اور نئے ورلڈ آڈر کے شیاطین ہیں۔نعیم نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اردن کے کیمپوں جہاں داعش کو تربیت اور اسلحہ دیا گیا میں امریکی میرین نگرانی کے فرائض انجام دے رہے تھے۔
نعیم کا مزید کہنا ہے کہ داعش کی فنڈنگ امریکہ کررہا ہے اور داعش سے وابستہ ہزاروں دہشتگرد تل ابیب کے اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔
امریکی مصنف اپنے مضمون میں رقمطراز ہے کہ داعش نے نکاح کے متبرک رسم کو شرمسار کیا ہے۔ یہ لوگ مذہب کے نام پر لوگوں کا قتل عام اور عورتوں کی عصمت دری کررہے ہیں۔عراق اور شام میں بالکل اسی طرح کی نسل کشی میں مصروف عمل ہیں جس طرح اسرائیل فلسطین میں ہے۔ اور اسلام کو بدنام کرنے میں داعش کوئی کسر باقی نہیں چھوڑ رہا ہے۔
شام اور عراق میں داعش کی سفاکی اور درندگی کے حوالے سے بیرٹ لکھتے ہیں کہ داعش کا رویہ غیر اسلامی ہی نہیں بلکہ شیطانی ہے ،اور پوری دنیا نے داعش کی غیر اسلامی خلافت کے شیطانی کارناموں کو دیکھا ہے۔یہ لوگ لاشوں کے اندرونی اعضاء کو نکا ل کر کھاتے ہیں جو جگرخوارہندہ کی رسم ہے اور ہندہ اسلام کی سب سے بڑی دشمن عورت تھی۔
بیرٹ لکھتے ہیں کہ ایک انسان کو قربان قرار دیکر اس کا گلہ کاٹنا پاگل پن اور درندگی ہے۔ اور ہرمسلمان جانتا ہے کہ ایسا کرنے والا مسلمان نہیں بلکہ شیطان صفت درندہ ہے۔
مضمون کے آخر میں ڈاکٹر کیون بیرٹ لکھتے ہیں کہ ایسا کوئی بھی مسلمان خواب میں بھی نہیں کرسکتا کہ وہ خدا کے حضور ایک انسان کو قربان کرے اور پھر خدا سے قربانی قبول کرنے کی دعا کرے۔یہ سب انسانی تصور سے باہر ہے.
.......
/169